آرزو ہے وفا کرے کوئی جی نہ چاہے تو کیا کرے کوئی

“One longs that someone should remain true; but if the heart is unwilling, what can one do?”

— داغ دہلوی
معنی

یہ خواہش تو ہوتی ہے کہ کوئی وفاداری نبھائے، لیکن اگر کسی کا دل ہی نہ چاہے تو کوئی کیا کر سکتا ہے۔

تشریح

یہ شعر محبت کی ایک بڑی نازک اور بے بس حقیقت کو سامنے لاتا ہے۔ دل کی دلی تمنا تو یہی ہوتی ہے کہ محبوب ٹوٹ کر وفا کرے، مگر شاعر یہ سچ یاد دلاتا ہے کہ جذبات پر کسی کا زور نہیں چلتا۔ محبت دل کا سودا ہے اور اگر اندر سے جی ہی نہ چاہے، تو چاہ کر بھی کسی کو وفادار نہیں بنایا جا سکتا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

1 / 12Next →