“You hold only disdain for affection and love; may God grant that someone falls in love with me!”
آپ کو تو محبت اور چاہت سے نفرت ہے، خدا کرے کہ کوئی مجھ سے محبت کرے۔
یہ شعر شکوے، طنز اور دل کی گہری تڑپ کا ایک خوبصورت سنگم ہے۔ عاشق محبوب کی بے رخی اور چاہت سے اس کی بیزاری کے آگے ہار مان چکا ہے، مگر اس کے سینے میں محبت پانے کی پیاس اب بھی باقی ہے۔ منتیں کرنے کے بجائے وہ خدا کے حضور ایک معصومانہ دعا کرتا ہے کہ کاش کوئی ایسا مل جائے جو اسے ٹوٹ کر چاہے۔ اس میں محبوب کو جلانے کا ہلکا سا انداز بھی ہے اور اپنی قدر شناسی کی سچی آرزو بھی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
