“If it were an illness, one could seek a cure; but for one destined to die, what can anyone do?”
اگر کوئی بیماری ہو تو انسان اس کا علاج کرے، لیکن جو مرنے کے قریب ہی ہو اس کا کوئی کیا کر سکتا ہے۔
یہ شعر دل کی اس بے بسی اور لاچاری کا نوحہ ہے جہاں رنج و الم کسی جسمانی بیماری کی حدوں سے پار نکل چکا ہو۔ اگر کوئی عام مرض ہو تو طبیب کی دوا اور دعا کارگر ہو سکتی ہے، لیکن جب روح ہی ہجر کے صدمے سے دم توڑ رہی ہو تو بھلا کوئی کیا تدبیر کرے۔ شاعر نے یہاں عشق کے اس لاعلاج درد اور انسانی بے بسی کو کمال سادگی اور گہرائی سے بیان کیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
