“Where the celestial maidens are eons old, what is anyone to do with such a paradise?”
جس جنت میں لاکھوں برس کی حوریں ہوں، کوئی ایسی جنت کا بھلا کیا کرے؟
اس شعر میں شاعر نے کمال کی ظرافت اور شوخی کے ساتھ روایتی جنت کے خیالی تصور پر چوٹ کی ہے۔ ناصحوں اور زاہدوں کے وعدوں کا مذاق اڑاتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ اگر حوریں ازل سے منتظر ہیں تو وہ تو اب تک لاکھوں برس بوڑھی ہو چکی ہوں گی، ایسی جنت کا کوئی کیا کرے! اس کھلندڑے انداز کے پیچھے دراصل زمینی زندگی کے حسن اور حقیقی انسانی رشتوں کو فرضی تصورات پر ترجیح دینے کا فلسفہ پوشیدہ ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
