“How bitterly the scorched ones heap their curses; how could anyone dare pray for one's own sake?”
دل جلے اور ستائے ہوئے لوگ کس قدر بددعائیں دیتے ہیں، ایسے عالم میں کوئی اپنے فائدے یا بھلائی کی دعا کیسے مانگ سکتا ہے۔
یہ شعر رنج و الم کی اس شدت کو بڑی خوبصورتی سے بیان کرتا ہے جہاں دکھوں سے جھلسے ہوئے دلوں کی آہیں اور بددعائیں فضا پر چھائی ہوئی ہیں۔ 'جلے ہوئے' دراصل عشق اور مصائب کی آگ میں برباد ہونے والے وہ لوگ ہیں جن کی فریادیں دل دہلا دیتی ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ جب چاروں طرف ایسی تپش اور درد کا عالم ہو، تو بھلا کوئی کس ہمت کے ساتھ اپنے لیے خیر اور خوشی کی دعا مانگ سکتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
