“To them, everyone speaks of their own desires; would that someone could convey what I truly mean.”
سب لوگ ان سے اپنی اپنی بات کرتے ہیں، کاش کوئی ایسا ہو جو میرا مقصد اور مدعا ان تک پہنچا سکے۔
محبوب کی محفل میں ہر شخص اپنی ہی غرض اور اپنی بات منوانے میں مصروف ہے، مگر اس شور میں عاشق کا سچا اور بے لوث جذبہ اَن کہا رہ جاتا ہے۔ شاعر کو افسوس ہے کہ سب اپنی ہی کہتے ہیں، مگر اس کے دل کی نازک اور گہری کیفیت کو الفاظ دینے والا کوئی نہیں جو محبوب تک اس کا اصل مدعا پہنچا سکے۔ یہ شعر ہجوم کے اندر چھپی ایک ایسی خاموش تنہائی اور درد کی عکاسی کرتا ہے جسے صرف دردِ دل رکھنے والا ہی سمجھ سکتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
