“You are, from head to toe, the very likeness of a portrait; how, then, could anyone ever speak with you?”
تم سر سے پاؤں تک بالکل ایک تصویر کی مانند ہو، پھر بھلا کوئی تم سے کیسے بات کرے۔
اس شعر میں شاعر نے محبوب کے دلکش سراپے کو ایک خوبصورت تصویر سے تشبیہ دی ہے جو مکمل حسن تو رکھتی ہے مگر بول نہیں سکتی۔ تصویر صرف نظروں کو خیرہ کر سکتی ہے، دل کی بات کا جواب نہیں دے سکتی۔ شاعر دراصل محبوب کی حیرت انگیز خوبصورتی کی تعریف بھی کر رہا ہے اور ساتھ ہی اس کی بے رخی اور پراسرار خاموشی پر ایک میٹھا سا شکوہ بھی درج کر رہا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
