“The moment he was favored, 'Dagh' grew proud and vain; what delight it would be now, if someone treated him with cruelty again.”
تھوڑی سی توجہ ملتے ہی داغ اترانے لگا، اب تو لطف اسی میں ہے کہ کوئی اس کے ساتھ پھر سے بے رخی اور ظلم کرے۔
اس شعر میں داغؔ دہلوی کا خاص شوخ اور چھیڑ چھاڑ والا انداز جھلکتا ہے۔ محبوب نے جیسے ہی ذرا منہ لگایا اور توجہ دی، عاشق آپے سے باہر ہو کر غرور سے اترانے لگا۔ اب شاعر ازراہِ شوخی کہتا ہے کہ سچا مزہ تو تب آئے گا جب محبوب پھر سے ستم اور بے رخی پر اتر آئے، تاکہ عاشق کے نخرے ٹوٹیں اور عشق کی یہ میٹھی کشمکش دوبارہ جی اٹھے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
