غزل
وہ سو سو اٹھکھٹوں سے گھر سے باہر دو قدم نکلے
وہ سو سو اٹھکھٹوں سے گھر سے باہر دو قدم نکلے
یہ غزل محبوب کی دلکش ادائوں اور اس کی بے نیازی کو بیان کرتی ہے جس کے جلوے عاشق کو بے قرار کر دیتے ہیں۔ اس میں عشق کے گہرے کرب، دل کی تڑپ اور خون کے آنسو بن کر بہتے ہوئے غم کی پرتاثیر عکاسی کی گئی ہے۔
Source: rekhta · HI
نغمہ سنیں
1
वो सौ सौ अठखटों से घर से बाहर दो क़दम निकले
बला से उस की गर उस में किसी मुज़्तर का दम निकले
وہ سو سو اٹھکھٹوں سے گھر سے باہر دو قدم نکلے
بلا سے اس کی گر اس میں کسی مضطر کا دم نکلے
محبوب سو طرح کے ناز و نخروں کے ساتھ گھر سے باہر صرف دو قدم ہی نکلا؛ اسے کیا پروا کہ اگر اس دوران کسی تڑپتے ہوئے عاشق کا دم نکل جائے۔
2
कहाँ आँसू के क़तरे ख़ून-ए-दिल से हैं बहम निकले
ये दिल में जम्अ थे मुद्दत से कुछ पैकान-ए-ग़म निकले
کہاں آنسو کے قطرے خون دل سے ہیں بہم نکلے
یہ دل میں جمع تھے مدت سے کچھ پیکان غم نکلے
یہ صرف دل کے خون سے ملے ہوئے آنسو کے قطرے نہیں ہیں، بلکہ غم کے تیروں کے وہ پھل ہیں جو مدت سے دل میں جمع تھے اور اب باہر نکلے ہیں۔
3
मिरे मज़मून-ए-सोज़-ए-दिल से ख़त सब जल गया मेरा
क़लम से हर्फ़ जो निकले शरर ही यक-क़लम निकले
مرے مضمون سوز دل سے خط سب جل گیا میرا
قلم سے حرف جو نکلے شرر ہی یک قلم نکلے
میرے دل کے سوز اور تپش کے بیان سے میرا سارا خط جل گیا، کیونکہ قلم سے جو بھی الفاظ نکلے وہ سب کے سب چنگاریاں بن کر نکلے۔
4
निकाल ऐ चारागर तू शौक़ से लेकिन सर-ए-पैकाँ
उधर निकले जिगर से तीर उधर क़ालिब से दम निकले
نکال اے چارہ گر تو شوق سے لیکن سر پیکاں
ادھر نکلے جگر سے تیر ادھر قالب سے دم نکلے
اے معالج، تو خوشی سے تیر کی انی جسم سے نکال لے، لیکن یاد رہے کہ جیسے ہی جگر سے تیر باہر آئے گا، ادھر جسم سے میری جان بھی نکل جائے گی۔
5
तसव्वुर से लब-ए-लालीं के तेरे हम अगर रो दें
तो जो लख़्त-ए-जिगर आँखों से निकले इक रक़म निकले
تصور سے لب لعلیں کے تیرے ہم اگر رو دیں
تو جو لخت جگر آنکھوں سے نکلے اک رقم نکلے
اگر ہم تمہارے لال ہونٹوں کے خیال میں رو پڑیں، تو آنکھوں سے گرنے والا جگر کا ہر ٹکڑا ایک قیمتی گوہر بن کر نکلے گا۔
6
नहीं डरते अगर हों लाख ज़िंदाँ यार ज़िंदाँ से
जुनून अब तो मिसाल-ए-नाला-ए-ज़ंजीर हम निकले
نہیں ڈرتے اگر ہوں لاکھ زنداں یار زنداں سے
جنون اب تو مثال نالۂ زنجیر ہم نکلے
اے دوست! اگر راستے میں لاکھ قید خانے بھی ہوں تو بھی ہم قید سے نہیں ڈرتے۔ اپنے جنون کی شدت میں اب ہم زنجیر کی فریاد کی طرح باہر نکل آئے ہیں۔
7
जिगर पर दाग़ लब पर दूद-ए-दिल और अश्क दामन में
तिरी महफ़िल से हम मानिंद-ए-शम्अ सुब्ह-दम निकले
جگر پر داغ لب پر دود دل اور اشک دامن میں
تری محفل سے ہم مانند شمع صبح دم نکلے
ہم جگر پر داغ، ہونٹوں پر دل کی آہوں کا دھواں اور دامن میں آنسو لیے تیری محفل سے صبح کے وقت بجھتی ہوئی شمع کی طرح نکلے۔
8
अगर होता ज़माना गेसु-ए-शब-रंग का तेरे
मिरी शब-दीज़ सौदा का ज़ियादा-तर क़दम निकले
اگر ہوتا زمانہ گیسوئے شب رنگ کا تیرے
مری شب دیز سودا کا زیادہ تر قدم نکلے
9
कजी जिन की तबीअत में है कब होती वो सीधी है
कहो शाख़-ए-गुल-ए-तस्वीर से किस तरह ख़म निकले
کجی جن کی طبیعت میں ہے کب ہوتی وہ سیدھی ہے
کہو شاخ گل تصویر سے کس طرح خم نکلے
10
शुमार इक शब किया हम ने जो अपने दिल के दाग़ों से
तो अंजुम चर्ख़-ए-हशतुम के बहुत से उन से कम निकले
شمار اک شب کیا ہم نے جو اپنے دل کے داغوں سے
تو انجم چرخ ہشتم کے بہت سے ان سے کم نکلے
11
ख़ुदा के वास्ते ज़ाहिद उठा पर्दा न काबे का
कहीं ऐसा न हो याँ भी वही काफ़िर-सनम निकले
خدا کے واسطے زاہد اٹھا پردہ نہ کعبہ کا
کہیں ایسا نہ ہو یاں بھی وہی کافر صنم نکلے
12
तमन्ना है ये दिल में जब तलक है दम में दम अपने
'ज़फ़र' मुँह से हमारे नाम उस का दम-ब-दम निकले
تمنا ہے یہ دل میں جب تلک ہے دم میں دم اپنے
ظفرؔ منہ سے ہمارے نام اس کا دم بہ دم نکلے
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
