“We fear no prison, friend, though hundred thousand dungeons round us ring; in frenzy, like the wailing cry of chains, we have taken wing.”
اے دوست! اگر راستے میں لاکھ قید خانے بھی ہوں تو بھی ہم قید سے نہیں ڈرتے۔ اپنے جنون کی شدت میں اب ہم زنجیر کی فریاد کی طرح باہر نکل آئے ہیں۔
شاعر کہتے ہیں کہ جب دل میں سچا جنون جاگ اٹھے تو پھر دنیا کے لاکھ قید خانے بھی روح کو پابند نہیں کر سکتے۔ یہاں 'نالۂ زنجیر' یعنی بیڑیوں کی صدا کا کتنا لاجواب استعارہ ہے—لوہا جسم کو تو جکڑ سکتا ہے مگر آواز کی پرواز کو بھلا کون روک پایا ہے؟ یہ شعر جبر اور خوف پر سچے جذبے اور باطنی آزادی کی فتح کا شاندار اعلان ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
