“Had time itself matched the darkness of your night-hued tresses, the midnight steed of my madness would have galloped further still.”
اگر یہ زمانہ تیری رات جیسی سیاہ زلفوں کے مانند طویل ہوتا، تو میرے جنون کا سیاہ گھوڑا اور بھی آگے نکل جاتا۔
اس شعر میں شاعر نے محبوب کی شب رنگ زلفوں اور اپنے دل کی وارفتگی کا ایک بے مثال منظر کھینچا ہے۔ 'شب دیز' دراصل ایک مشہور سیاہ گھوڑے کا نام ہے، جسے شاعر نے اپنے عشق کی بے قراری اور سودائے جنون کا استعارہ بنا دیا ہے۔ بات اتنی سادہ مگر گہری ہے کہ اگر یہ سارا زمانہ آپ کی زلفوں کی طرح طویل اور پرسکون رات بن جاتا، تو میرے جنون کا گھوڑا اور بھی بے باکی سے دوڑتا اور ہر حد سے آگے نکل جاتا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
