“Were I to weep, lost in the thought of your ruby lips, each shred of heart that falls from my eyes would turn a priceless gem.”
اگر ہم تمہارے لال ہونٹوں کے خیال میں رو پڑیں، تو آنکھوں سے گرنے والا جگر کا ہر ٹکڑا ایک قیمتی گوہر بن کر نکلے گا۔
یہاں شاعر محبوب کے یاقوت جیسے سرخ ہونٹوں کے خیال میں ڈوب کر آنسو بہانے کا ذکر کر رہا ہے۔ روایتی شاعری میں شدید غم کا اظہار یوں ہوتا ہے کہ آنکھوں سے پانی کے بجائے لختِ جگر خون بن کر ٹپکتا ہے۔ مگر کمال یہ ہے کہ چونکہ یہ آنسو محبوب کے لبِ لعلیں کی یاد میں نکلے ہیں، اس لیے ہر قطرہ محض درد نہیں بلکہ ایک نایاب اور قیمتی جوہر بن جاتا ہے۔ یہ شعر اس خوبصورت بات کو بیان کرتا ہے کہ محبت کا درد دل کی ویرانی کو بھی انمول بنا دیتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
