“With a hundred coy pretenses, scarce two paces from home she strode; what cared she if, in that fleeting breath, a restless lover's life was lost?”
محبوب سو طرح کے ناز و نخروں کے ساتھ گھر سے باہر صرف دو قدم ہی نکلا؛ اسے کیا پروا کہ اگر اس دوران کسی تڑپتے ہوئے عاشق کا دم نکل جائے۔
اس شعر میں محبوب کی شوخی، ناز و انداز اور اس کی دل لبھاتی بے نیازی کا بڑا دلکش منظر پیش کیا گیا ہے۔ محبوب سو نخروں اور حیلوں بہانوں کے بعد گھر سے بمشکل دو قدم ہی باہر نکلتا ہے، مگر اسے اس بات کی مطلق پروا نہیں کہ اس کی ایک جھلک کے انتظار میں تڑپتے ہوئے عاشق کی جان پر بن آئی ہے۔ یہ شعر محبت کے اسی پُرلُطف ستم کو ظاہر کرتا ہے جہاں محبوب کی ادنیٰ سی بے رخی عاشق کے لیے زندگی اور موت کا فیصلہ بن جاتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
