“With a scar upon the heart, smoke on the lips, and tears upon the hem, like a candle at the break of dawn, I departed from your gathering.”
ہم جگر پر داغ، ہونٹوں پر دل کی آہوں کا دھواں اور دامن میں آنسو لیے تیری محفل سے صبح کے وقت بجھتی ہوئی شمع کی طرح نکلے۔
شاعر نے یہاں اپنے حال کا موازنہ صبح کے وقت بجھتی ہوئی شمع سے کیا ہے جو رات بھر تڑپ تڑپ کر آخرکار دم توڑ رہی ہو۔ جگر کا داغ شمع کی جلی ہوئی بتی، ہونٹوں پر سسکتی آہیں اس کا دھواں، اور دامن پر گرے آنسو پگھلے ہوئے موم کی مانند ہیں۔ یہ شعر محبوب کی محفل سے اُس دل شکستہ عاشق کی رخصتی کو پیش کرتا ہے جو عشق کی آگ میں خود کو پوری طرح نثار کر کے اب بے بس اور خالی ہاتھ پلٹ رہا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
