“The burning sorrow of my heart consumed the page entire; each word that issued from the pen burst forth as sparks of fire.”
میرے دل کے سوز اور تپش کے بیان سے میرا سارا خط جل گیا، کیونکہ قلم سے جو بھی الفاظ نکلے وہ سب کے سب چنگاریاں بن کر نکلے۔
شاعر نے اپنے دل کے تڑپتے ہوئے درد اور سوزِ عشق کو مبالغے کے دلکش انداز میں بیان کیا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ دل کی آگ اتنی شدید تھی کہ قلم سے الفاظ کی بجائے چنگاریاں نکلنے لگیں اور پورا خط ہی جل کر راکھ ہو گیا۔ یہاں 'قلم' اور 'یک قلم' (یکسر یا فوراً) کی باہمی مناسبت دل کی اس تپش کو ظاہر کرتی ہے جسے کوئی کاغذ سنبھال ہی نہیں سکتا تھا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
