کجی جن کی طبیعت میں ہے کب ہوتی وہ سیدھی ہے کہو شاخ گل تصویر سے کس طرح خم نکلے

“Those whose nature is born crooked, when do they ever turn straight? Tell me, how can the bend ever be unbent from a painted flower’s bough?”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

جن کی فطرت میں ٹیڑھا پن ہوتا ہے وہ کبھی سیدھے نہیں ہو سکتے، بالکل ویسے ہی جیسے تصویر میں بنی پھول کی ڈالی کا خم کبھی دور نہیں کیا جا سکتا۔

تشریح

شاعر نے یہاں ایک نہایت دلکش اور گہری تمثیل پیش کی ہے کہ جس طرح کسی تصویر میں بنی پھول کی ڈالی کا خم کبھی سیدھا نہیں کیا جا سکتا، بالکل اسی طرح جن کی فطرت میں کجی ہو، وہ کبھی درست نہیں ہو سکتے۔ تصویر میں کھینچا ہوا نقش ہمیشہ کے لیے جم جاتا ہے، اور بعض انسانوں کی خصلت بھی اتنی ہی ناگزیر اور اٹل ہوتی ہے۔ یہ شعر بڑی اپنائیت سے زندگی کی ایک تلخ سچائی کھول کر رکھ دیتا ہے کہ انسان اپنی بنیادی ساخت کو کبھی نہیں بدل پاتا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.