نکال اے چارہ گر تو شوق سے لیکن سر پیکاں ادھر نکلے جگر سے تیر ادھر قالب سے دم نکلے

“Pull out the arrowhead, O healer, freely as you please— / But as the arrow leaves my heart, life leaves this mortal frame.”

— بہادر شاہ ظفر
معنی

اے معالج، تو خوشی سے تیر کی انی جسم سے نکال لے، لیکن یاد رہے کہ جیسے ہی جگر سے تیر باہر آئے گا، ادھر جسم سے میری جان بھی نکل جائے گی۔

تشریح

اس شعر میں عاشق اپنے چارہ گر سے کہتا ہے کہ تجھے دل میں پیوست تیر کی نوک نکالنے کا پورا اختیار ہے، مگر یاد رہے کہ یہ تیر اب میری سانسوں کی ڈور بن چکا ہے۔ ادھر یہ تیر جگر سے جدا ہوگا اور ادھر قالب سے میری جان نکل جائے گی۔ شاعر نے کمال خوبصورتی سے دکھایا ہے کہ عشق کا زخم اور عاشق کا وجود اس قدر یکجا ہو چکے ہیں کہ اب درد کا علاج ہی دراصل موت ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.