غزل

خدا علی گڑھ کی مدرسے کو تمام امراض سے شفا دے

خدا علی گڑھ کی مدرسے کو تمام امراض سے شفا دے
اکبر الہ آبادی· Ghazal· 13 shers

اس نظم میں علی گڑھ کے تعلیمی ادارے کی سلامتی اور ترقی کے لیے ایک پرخلوص اور ظریفانہ انداز میں دعا کی گئی ہے۔ شاعر نے وہاں زیرِ تعلیم خوش وضع، ذہین اور شریف زادوں کی خوبیاں بیان کرتے ہوئے ادارے کو ہر قسم کی خامیوں اور بیماریوں سے محفوظ رکھنے کی خواہش ظاہر کی ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
رسم الخط
1
ख़ुदा अलीगढ़ के मदरसे को तमाम अमराज़ से शिफ़ा दे भरे हुए हैं रईस-ज़ादे अमीर-ज़ादे शरीफ़-ज़ादे
خدا علی گڑھ کی مدرسے کو تمام امراض سے شفا دے بھرے ہوئے ہیں رئیس زادے امیر زادے شریف زادے
خدا علی گڑھ کے مدرسے کو تمام بیماریوں سے شفا عطا فرمائے، کیونکہ یہ رئیسوں، امیروں اور شریفوں کے بیٹوں سے بھرا ہوا ہے۔
2
लतीफ़ ओ ख़ुश-वज़्अ चुस्त-ओ-चालाक ओ साफ़-ओ-पाकीज़ा शाद-ओ-ख़ुर्रम तबीअतों में है उन की जौदत दिलों में उन के हैं नेक इरादे
لطیف و خوش وضع چست و چالاک و صاف و پاکیزہ شاد و خرم طبیعتوں میں ہے ان کی جودت دلوں میں ان کے ہیں نیک ارادے
وہ نفیس، خوش اطوار، چست و ہوشیار، پاک صاف اور خوش و خرم ہیں؛ ان کی طبیعتوں میں ذہانت ہے اور ان کے دلوں میں نیک ارادے ہیں۔
3
कमाल मेहनत से पढ़ रहे हैं कमाल ग़ैरत से बढ़ रहे हैं सवार मशरिक़ की राह में हैं तो मग़रिबी राह में पियादे
کمال محنت سے پڑھ رہے ہیں کمال غیرت سے بڑھ رہے ہیں سوار مشرق کی راہ میں ہیں تو مغربی راہ میں پیادے
لوگ انتہائی محنت سے پڑھ رہے ہیں اور بڑی خودداری سے آگے بڑھ رہے ہیں؛ وہ مشرق کی راہ میں تو شہسوار ہیں، مگر مغربی راہ میں محض پیادہ پا چل رہے ہیں۔
4
हर इक है उन में का बे-शक ऐसा कि आप उसे जानते हैं जैसा दिखाए महफ़िल में क़द्द-ए-रअना जो आप आएँ तो सर झुका दे
ہر اک ہے ان میں کا بے شک ایسا کہ آپ اسے جانتے ہیں جیسا دکھائے محفل میں قد رعنا جو آپ آئیں تو سر جھکا دے
ان میں سے ہر ایک یقیناً ویسا ہی ہے جیسا آپ اسے جانتے ہیں؛ وہ محفل میں تو اپنا خوبصورت قد دکھاتا ہے لیکن آپ کے آتے ہی سر جھکا دیتا ہے۔
5
फ़क़ीर माँगें तो साफ़ कह दें कि तू है मज़बूत जा कमा खा क़ुबूल फ़रमाएँ आप दावत तो अपना सरमाया कुल खिला दे
فقیر مانگیں تو صاف کہہ دیں کہ تو ہے مضبوط جا کما کھا قبول فرمائیں آپ دعوت تو اپنا سرمایہ کل کھلا دے
اگر کوئی فقیر مانگے تو لوگ صاف کہہ دیتے ہیں کہ تم ہٹے کٹے ہو جا کر کما کر کھاؤ، لیکن اگر کوئی بڑا شخص دعوت قبول کر لے تو اس کی خاطر تواضع میں اپنی ساری جمع پونجی لٹا دیتے ہیں۔
6
बुतों से उन को नहीं लगावट मिसों की लेते नहीं वो आहट तमाम क़ुव्वत है सर्फ़-ए-ख़्वाँदन नज़र के भोले हैं दिल की सादे
بتوں سے ان کو نہیں لگاوٹ مسوں کی لیتے نہیں وہ آہٹ تمام قوت ہے صرف خواندن نظر کے بھولے ہیں دل کی سادے
انہیں نہ حسینوں سے کوئی لگاؤ ہے اور نہ ہی وہ انگریز دوشیزاؤں کی طرف توجہ دیتے ہیں؛ ان کی تمام توانائی صرف پڑھائی لکھائی میں خرچ ہوتی ہے، وہ نظر کے معصوم اور دل کے سادے ہیں۔
7
नज़र भी आए जो ज़ुल्फ़-ए-पेचाँ तो समझें ये कोई पालिसी है इलेक्ट्रिक लाईट उस को समझें जो बर्क़-वश कोई कोई दे
نظر بھی آئے جو زلف پیچاں تو سمجھیں یہ کوئی پالسی ہے الکٹرک لائٹ اس کو سمجھیں جو برق وش کوئی کوئی دے
اگر کبھی الجھی ہوئی زلفیں نظر بھی آ جائیں تو سمجھیں کہ یہ کوئی سوچی سمجھی پالیسی ہے، اور بجلی کی روشنی صرف اسی کو سمجھیں جو بجلی کی طرح کبھی کبھار چمکے۔
8
निकलते हैं कर के ग़ोल-बंदी ब-नाम-ए-तहज़ीब ओ दर्द-मंदी ये कह के लेते हैं सब से चंदे हमें जो तुम दो तुम्हें ख़ुदा दे
نکلتے ہیں کر کے غول بندی بنام تہذیب و درد مندی یہ کہہ کے لیتے ہیں سب سے چندے ہمیں جو تم دو تمہیں خدا دے
لوگ تہذیب اور ہمدردی کے نام پر ٹولیاں بنا کر نکلتے ہیں اور یہ کہہ کر سب سے چندہ جمع کرتے ہیں کہ جو تم ہمیں دو گے، خدا تمہیں اس کا صلہ دے گا۔
9
उन्हें इसी बात पर यक़ीन है कि बस यही असल कार-ए-दीं है इसी सी होगा फ़रोग़-ए-क़ौमी इसी से चमकेंगे बाप दादे
انہیں اسی بات پر یقین ہے کہ بس یہی اصل کار دیں ہے اسی سی ہوگا فروغ قومی اسی سے چمکیں گے باپ دادے
انہیں پختہ یقین ہے کہ بس یہی دین کا اصل کام ہے، اور اسی سے قوم کی ترقی ہوگی اور ان کے آبا و اجداد کا نام روشن ہوگا۔
10
मकान-ए-कॉलेज के सब मकीं हैं अभी उन्हें तजरबे नहीं हैं ख़बर नहीं है कि आगे चल कर है कैसी मंज़िल हैं कैसी जादे
مکان کالج کے سب مکیں ہیں ابھی انہیں تجربے نہیں ہیں خبر نہیں ہے کہ آگے چل کر ہے کیسی منزل ہیں کیسی جادے
کالج کی عمارت میں رہنے والے ان تمام لوگوں کو ابھی زندگی کا کوئی تجربہ نہیں ہے، اور انہیں خبر نہیں کہ آگے چل کر کیسی منزلیں اور کیسے راستے آئیں گے۔
11
दिलों में उन के है नूर-ए-ईमाँ क़वी नहीं है मगर निगहबाँ हवा-ए-मंतिक़ अदा-ए-तिफ़ली ये शम्अ ऐसा न हो बुझा दे
دلوں میں ان کے ہے نور ایماں قوی نہیں ہے مگر نگہباں ہوائے منطق ادائے طفلی یہ شمع ایسا نہ ہو بجھا دے
ان کے دلوں میں ایمان کی روشنی تو موجود ہے مگر اس کا نگہبان مضبوط نہیں ہے۔ ایسا نہ ہو کہ منطق کی ہوا اور بچگانہ حرکتیں اس شمع کو بجھا دیں۔
12
फ़रेब दे कर निकाले मतलब सिखाए तहक़ीर-ए-दीन-ओ-मज़हब मिटा दे आख़िर को वज़-ए-मिल्लत नुमूद-ए-ज़ाती को गर बढ़ा दे
فریب دے کر نکالے مطلب سکھائے تحقیر دین و مذہب مٹا دے آخر کو وضع ملت نمود ذاتی کو گر بڑھا دے
یہ دھوکے سے اپنے مفادات حاصل کرتا ہے اور دین و مذہب کی توہین سکھاتا ہے، اور اگر اپنی ذاتی نمائش اور خود پسندی کو فروغ دینا ہو تو آخرکار قوم کی شناخت اور روایات کو بھی مٹا دیتا ہے۔
13
यही बस 'अकबर' की इल्तिजा है जनाब-ए-बारी में ये दुआ है उलूम-ओ-हिकमत का दर्स उन को प्रोफ़ेसर दें समझ ख़ुदा दे
یہی بس اکبرؔ کی التجا ہے جناب باری میں یہ دعا ہے علوم و حکمت کا درس ان کو پروفیسر دیں سمجھ خدا دے
اکبر کی اللہ کے حضور بس یہی التجا اور دعا ہے کہ پروفیسر اگرچہ انہیں علوم و فنون کی تعلیم دیں، مگر اسے سمجھنے کی حقیقی عقل و فہم اللہ عطا فرمائے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.