فقیر مانگیں تو صاف کہہ دیں کہ تو ہے مضبوط جا کما کھا قبول فرمائیں آپ دعوت تو اپنا سرمایہ کل کھلا دے

“If a beggar pleads, they bluntly sneer, 'You are able and strong, go work and earn!' / Yet if the elite accept their feast, their entire fortune is spent in return.”

— اکبر الہ آبادی
معنی

اگر کوئی فقیر مانگے تو لوگ صاف کہہ دیتے ہیں کہ تم ہٹے کٹے ہو جا کر کما کر کھاؤ، لیکن اگر کوئی بڑا شخص دعوت قبول کر لے تو اس کی خاطر تواضع میں اپنی ساری جمع پونجی لٹا دیتے ہیں۔

تشریح

یہ شعر معاشرے کے کھوکھلے پن اور دوہرے معیار پر ایک گہرا طنز ہے۔ جب کوئی مجبور یا فقیر دستِ سوال دراز کرتا ہے تو ہم اسے محنت کرنے کا بھاشن دے کر ٹال دیتے ہیں، مگر کسی امیر یا بااثر شخص کی جھوٹی واہ واہ سمیٹنے کے لیے اپنی پوری جمع پونجی نچھاور کر دیتے ہیں۔ شاعر نے بڑی خوبصورتی سے احساس دلایا ہے کہ ہمارا معاشرہ ضرورت مند کے لیے پتھر اور طاقتور کے لیے کتنا خوشامدی بن جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.