“Should tangled tresses catch the eye, deem it to be some clever policy; and take that for electric light, which flashes rare like lightning's gleam.”
اگر کبھی الجھی ہوئی زلفیں نظر بھی آ جائیں تو سمجھیں کہ یہ کوئی سوچی سمجھی پالیسی ہے، اور بجلی کی روشنی صرف اسی کو سمجھیں جو بجلی کی طرح کبھی کبھار چمکے۔
اس شعر میں شاعر نے روایتی عشقیہ انداز کو نئے دور کے طنز اور ظرافت کے ساتھ کمال خوبصورتی سے یکجا کیا ہے۔ محبوب کی بل کھاتی زلفیں اب دل لبھانے والی ادا نہیں رہیں بلکہ انہیں مصلحت پسندی اور تدبیر پر مبنی کوئی چالاکی یا 'پالیسی' سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح اس کے حسن کی کوندتی ہوئی بجلی کو کوئی سحر انگیز جلوہ جاننے کے بجائے وقفے وقفے سے جلنے بجھنے والی بجلی کے قمقمے سے تعبیر کیا گیا ہے، جو رومانس پر جدیدیت کے اثرات پر ایک خوبصورت مسکراہٹ چھوڑ جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
