“Forming factions they venture out in the name of culture and compassion, extracting donations from all with the cry: 'Whatever you give us, may God grant you in return!'”
لوگ تہذیب اور ہمدردی کے نام پر ٹولیاں بنا کر نکلتے ہیں اور یہ کہہ کر سب سے چندہ جمع کرتے ہیں کہ جو تم ہمیں دو گے، خدا تمہیں اس کا صلہ دے گا۔
یہ شعر سماج کے ان منافقوں پر ایک کاٹ دار اور پرلطف طنز ہے جو تہذیب اور ہمدردی کا لبادہ اوڑھ کر اپنے مفادات پورے کرتے ہیں۔ شاعر نے بڑی خوبصورتی سے دکھایا ہے کہ کس طرح لوگ ٹولیاں بنا کر نکلتے ہیں اور بڑے بڑے نیک مقاصد کا ڈھونگ رچا کر عام لوگوں سے چندے بٹورتے ہیں۔ روایتی گداگروں کا نعرہ ان کے لبوں پر رکھ کر شاعر نے ان کی نام نہاد شرافت اور فلاحی سرگرمیوں کی اصلیت کو بے نقاب کر دیا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
