“They are firmly convinced that this alone is the true calling of faith; through this alone shall the nation rise, and their forefathers' glory brightly shine.”
انہیں پختہ یقین ہے کہ بس یہی دین کا اصل کام ہے، اور اسی سے قوم کی ترقی ہوگی اور ان کے آبا و اجداد کا نام روشن ہوگا۔
اس شعر میں شاعر نے بڑی خوبصورتی اور طنز کے ساتھ ان لوگوں کا احوال بیان کیا ہے جو کھوکھلی رسومات اور ظاہرداری کو ہی اصل دین سمجھ لیتے ہیں۔ ان کا گمان ہے کہ بس انہی پرانی باتوں پر جمے رہنے سے قوم کا وقار بلند ہوگا اور آبا و اجداد کا نام چمکے گا۔ شاعر دراصل یہ سمجھانا چاہتے ہیں کہ نئی سوچ اور حقیقی عمل کے بغیر محض ماضی کے گن گانے سے کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
