“May God heal the college of Aligarh from every malady and plight, filled as it is with the sons of the wealthy, the noble, and the elite.”
خدا علی گڑھ کے مدرسے کو تمام بیماریوں سے شفا عطا فرمائے، کیونکہ یہ رئیسوں، امیروں اور شریفوں کے بیٹوں سے بھرا ہوا ہے۔
یہ شعر طنز و مزاح کے خوبصورت پردے میں ایک تلخ سچائی کو بے نقاب کرتا ہے۔ شاعر بظاہر تو علی گڑھ کالج کے لیے بیماریوں سے شفا کی دعا مانگتا ہے، مگر دوسرے مصرعے میں چٹکی لیتے ہوئے بتاتا ہے کہ اصل بیماری خود وہ رئیس زادے اور امیر زادے ہیں جو علم حاصل کرنے سے زیادہ اپنی خاندانی نمود و نمائش میں گم ہیں۔ یہ دراصل تعلیم کے اصل مقصد اور کھوکھلی اشرافیہ کی سوچ پر ایک شگفتہ مگر گہری چوٹ ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
