فریب دے کر نکالے مطلب سکھائے تحقیر دین و مذہب مٹا دے آخر کو وضع ملت نمود ذاتی کو گر بڑھا دے

“To gain its ends through false deceit, it teaches scorn for faith and creed; It sweeps away the communal bond, if only self-glory it may breed.”

— اکبر الہ آبادی
معنی

یہ دھوکے سے اپنے مفادات حاصل کرتا ہے اور دین و مذہب کی توہین سکھاتا ہے، اور اگر اپنی ذاتی نمائش اور خود پسندی کو فروغ دینا ہو تو آخرکار قوم کی شناخت اور روایات کو بھی مٹا دیتا ہے۔

تشریح

یہ شعر خود پسندی اور ذاتی شہرت کے اندھے نشے پر ایک گہری چوٹ ہے۔ شاعر فرماتے ہیں کہ جب انسان محض اپنی نمود و نمائش اور مطلب پرستی کا اسیر بن جاتا ہے، تو وہ فریب پر اتر آتا ہے اور دین و اخلاق کے سنہرے اصولوں کی تحقیر کرنے لگتا ہے۔ اس بے لگام انا پرستی کا دردناک انجام یہ نکلتا ہے کہ باہمی یکجہتی اور قوم و ملت کا شیرازہ ہی بکھر جاتا ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.