“With earnest toil they learn and strive, with wondrous pride they march ahead; Mounted riders on the Eastern road, yet humble pawns upon the Western path.”
لوگ انتہائی محنت سے پڑھ رہے ہیں اور بڑی خودداری سے آگے بڑھ رہے ہیں؛ وہ مشرق کی راہ میں تو شہسوار ہیں، مگر مغربی راہ میں محض پیادہ پا چل رہے ہیں۔
یہ شعر دورِ حاضر کی نئی نسل کی علمی جدوجہد اور فکری کشمکش کی بڑی خوبصورت تصویر کشی کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ نوجوان کمال محنت اور غیرت کے ساتھ علم کے میدان میں آگے بڑھ رہے ہیں، لیکن المیہ یہ ہے کہ وہ اپنی مشرقی اقدار کی راہ میں تو باوقار سوار کی مانند آگے ہیں، مگر مغربی افکار اور طرزِ حیات کی دوڑ میں محض پیادے بن کر رہ جاتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
