“Sheltered dwellers of the college halls, as yet untouched by worldly trial; they know not what rugged paths lie ahead, nor what destinations wait beyond the mile.”
کالج کی عمارت میں رہنے والے ان تمام لوگوں کو ابھی زندگی کا کوئی تجربہ نہیں ہے، اور انہیں خبر نہیں کہ آگے چل کر کیسی منزلیں اور کیسے راستے آئیں گے۔
یہ شعر کالج کی اس بےفکر اور پرسکون زندگی کی تصویر کشی کرتا ہے جہاں انسان دنیا کے کڑوے سچ اور تلخیوں سے ابھی محفوظ ہوتا ہے۔ کالج کی چہاردیواری کے اندر خواب بنتے یہ نوجوان دراصل زندگی کے اصل نشیب و فراز اور تجربات سے ناآشنا ہیں۔ شاعر ایک مشفق ہمدرد کی طرح متوجہ کرتا ہے کہ اس محفوظ پناہ گاہ سے باہر نکلتے ہی عملی زندگی کی راہیں کس قدر دشوار اور منزلیں کیسی کٹھن ثابت ہوں گی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
