یہی بس اکبرؔ کی التجا ہے جناب باری میں یہ دعا ہے علوم و حکمت کا درس ان کو پروفیسر دیں سمجھ خدا دے

“This alone is Akbar's humble plea, to the Divine this prayer to send: Let professors teach them sciences and arts, but may God grant wisdom to comprehend.”

— اکبر الہ آبادی
معنی

اکبر کی اللہ کے حضور بس یہی التجا اور دعا ہے کہ پروفیسر اگرچہ انہیں علوم و فنون کی تعلیم دیں، مگر اسے سمجھنے کی حقیقی عقل و فہم اللہ عطا فرمائے۔

تشریح

اکبر الہٰ آبادی نے اپنے خوبصورت انداز میں معلومات اور باطنی بصیرت کے درمیان کے فرق کو واضح کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اساتذہ اور پروفیسر دنیاوی علوم و فنون کے سبق تو پڑھا سکتے ہیں، مگر سچ اور جھوٹ کو پرکھنے کا شعور صرف خدا کی عنایت سے ہی نصیب ہوتا ہے۔ یہ دراصل نئی نسل کے لیے ایک دلی دعا ہے کہ وہ محض کتابی علم نہ سمیٹے، بلکہ اس کے دل میں سچی فہم اور دانائی بھی پیدا ہو۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.

← Prev13 / 13