غزل

نالا اس زور سے کیوں میر ادہائی دیتا

نالا اس زور سے کیوں میر ادہائی دیتا
شیخ ابراہیم ذوق· Ghazal· 11 shers

Source: Deewan-e-Zauq (1923) · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
नाला इस ज़ोर से क्यों मीर अधाई देता इसे फ़लक तू अगर मुझ को न सुनाई देता
نالا اس زور سے کیوں میر ادہائی دیتا اسے فلک تو اگر مجھ کو نہ سنائی دیتا
اے فلک، میر یہ نالہ اتنے زور سے کیوں کرتا، اگر تو اسے مجھے نہ سناتا۔
2
देख छोटों को रहे अंधेराई देता आसमान आँख से तिल में है दिखाई देता
دیکھ چھوٹوں کو رہے اندھیرائی دیتا آسمان آنکھ سے تل میں ہے دکھائی دیتا
دیکھو، یہ چھوٹوں پر اندھیرا ڈالتا رہتا ہے؛ پھر بھی سارا آسمان آنکھ کے ایک چھوٹے سے تل میں دکھائی دیتا ہے۔
3
लाख देता फ़लक आज़ार गवारा थे मगर एक तेरा न मुझे दर्द-ए-जुदाई देता
لاکھ دیتا فلک آزار گوارا تھے مگر ایک تیرا نہ مجھے درد جدائی دیتا
آسمان مجھے لاکھ تکلیفیں دیتا تو میں گوارا کر لیتا، مگر کاش وہ مجھے تجھ سے جدائی کا یہ ایک درد نہ دیتا۔
4
दे दुआ वादी-ए-पुर-ख़ार-ए-जुनूँ को हर गाम दाद ये तेरी मत आबला-पाई देता
دے دعا وادی پر خار جنوں کو ہر گام داد یہ تیری مت آبلہ پائی دیتا
ہر قدم پر جنون کی اُس خاردار وادی کو دعا دو، کیونکہ تمہاری اِس آبلہ پائی کی داد اور کوئی اتنی خوبی سے نہیں دے سکتا تھا۔
5
पंजा-ए-मिहर को ख़ून-ए-शफ़क़ में हर सुब्ह ख़ू बारी क्या है तेरा दस्त-ए-हिनाई देता
پنجہ مہر کو خون شفق میں ھر صبح خو باری کیا ہے ترا دست حنائی دیتا
ہر صبح سورج کے پنجے کو شفق کے خون میں ڈبو دینا—یہ خوں باری تیرے حنائی ہاتھ ہی کی عطا ہے۔
6
मदवश अश्क गिरा देन गे नज़र से इक दिन है अज़ल आँख इन से यही मुझ को सुझाई देता
مدوش اشک گرا دین گے نظر سے اک دن ہے ازل آنکھ ان سے یہی مجھ کو سجھائی دیتا
نشے میں چُور یہ آنکھیں ایک دن میری نظر سے آنسو گرا دیں گی؛ ازل سے ہی یہ آنکھیں مجھے یہی بات دکھاتی آئی ہیں۔
7
मैं वो हूँ सैद कि फिर इस में फँसता को आ तू क़फ़स से मुझे सद बार रिहाई देता
میں وہ ہوں صید کہ پھر اس میں پھنستا کو آ تو قفس سے مجھے صد بار رہائی دیتا
میں وہ شکار ہوں جو پھر سے اسی جال میں آ کر پھنس جاتا، چاہے تو مجھے قفس سے سو بار رہا کر دیتا۔
8
कौन घर आईना के आता अगर वो दिल में ख़ाकसारों से न जारूब-ए-सफ़ाई देता
کون گھر آئینہ کے آتا اگر وہ دل میں خاکساروں سے نہ جاروب صفائی دیتا
آئینے کے گھر کون آتا، اگر وہ دل میں بستا؛ اگر وہ خاکساروں کو صفائی کی جھاڑو نہ دیتا۔
9
ख़ूगर-ए-नाज़ हूँ किस का कि मुझे साग़र-ए-मय बोसा-ए-लब नहीं बे-चश्म-नुमाई देता
خوگر ناز ہوں کس کا کہ مجھے ساغر مے بوسہ لب نہیں بے چشم نمائی دیتا
میں کس کے ناز و انداز کا ایسا عادی ہو چکا ہوں کہ شراب کا جام بھی مجھے اپنے لب کا بوسہ آنکھ دکھائے اور نخرے کیے بغیر نہیں دیتا۔
10
मुँह से बस करते न हरगिज़ ये ख़ुदा के बंदे गर हिर्सों को ख़ुदा सारी ख़ुदाई देता
منھ سے بس کرتے نہ ہرگز یہ خدا کے بندے گر حرصوں کو خدا ساری خدائی دیتا
خدا کے یہ بندے اپنے منھ سے کبھی 'بس' نہیں کہتے؛ اگر خدا لالچی لوگوں کو ساری خدائی بھی دے دے، تب بھی وہ مطمئن نہیں ہوتے۔
11
देख कर देखना है ज़ौक़ कि वो पर्दा-नशीन दीदा-ए-रौज़न-ए-दिल से है दिखाई देता
دیکھ کر دیکھنا ہے ذوق کہ وہ پردہ نشین دیدہ روزن دل سے ہے دکھائی دیتا
اے ذوق، اُس پردہ نشین کو دیکھ دیکھ کر دیکھنے کا کیا لطف ہے کہ وہ دل کے روزن (روشندان) کی آنکھ سے دکھائی دیتی ہے۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.