منھ سے بس کرتے نہ ہرگز یہ خدا کے بندے — شیخ ابراہیم ذوق
“These servants of God would never once say 'enough' from their lips, Even if God were to grant the greedy the whole of His dominion.”
معنی
خدا کے یہ بندے اپنے منھ سے کبھی 'بس' نہیں کہتے؛ اگر خدا لالچی لوگوں کو ساری خدائی بھی دے دے، تب بھی وہ مطمئن نہیں ہوتے۔
تشریح
اس شعر میں شاعر انسانی حرص اور لالچ پر نرم طنز کر رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جو لوگ حرص کے قیدی ہیں، ان کی بھوک کبھی ختم نہیں ہوتی — اگر خدا انہیں ساری خدائی بھی عطا کر دے، تب بھی ان کے لبوں سے 'بس' کا لفظ نہ نکلے۔ 'خدا کے بندے' کہنے میں ایک گہرا طنز چھپا ہے: جو بندگی کا دعویٰ کرتے ہیں، وہی سب سے زیادہ ہوس میں ڈوبے ہیں۔ دراصل یہ انسانی فطرت کی اُس کمزوری کی طرف اشارہ ہے جو قناعت کا سکون کبھی نہیں جانتی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
