لاکھ دیتا فلک آزار گوارا تھے مگر — شیخ ابراہیم ذوق

لاکھ دیتا فلک آزار گوارا تھے مگر ایک تیرا نہ مجھے درد جدائی دیتا

“A hundred torments heaven gave—those I could have borne with grace, but this one grief of parting from you, that it should never have set in place.”

— شیخ ابراہیم ذوق

معنی

آسمان مجھے لاکھ تکلیفیں دیتا تو میں گوارا کر لیتا، مگر کاش وہ مجھے تجھ سے جدائی کا یہ ایک درد نہ دیتا۔

تشریح

اس شعر میں شاعر آسمان یعنی تقدیر سے ایک انوکھی فریاد کرتا ہے کہ دنیا کی لاکھ تکلیفیں دیتا تو میں خوشی سے سہہ لیتا، بس ایک کام نہ کرتا—مجھے محبوب سے جدائی کا درد نہ دیتا۔ یہاں 'فلک' کو ایک ظالم عطا کرنے والے کے روپ میں دکھایا گیا ہے جس کے سارے تحفے دکھ ہیں، مگر شاعر سب قبول کرتا ہے سوائے ہجر کے۔ یہ شعر ایک نازک سچائی کھولتا ہے کہ تمام غموں میں جدائی کا درد سب سے تیز اور ناقابلِ برداشت ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.