دے دعا وادی پر خار جنوں کو ہر گام — شیخ ابراہیم ذوق
“At every step bless the thorn-strewn valley of frenzy— no other could reward this blistered wandering of yours so well.”
معنی
ہر قدم پر جنون کی اُس خاردار وادی کو دعا دو، کیونکہ تمہاری اِس آبلہ پائی کی داد اور کوئی اتنی خوبی سے نہیں دے سکتا تھا۔
تشریح
ذرا سوچیے — شاعر اپنے جنون کی اُس وادی کو دعا دے رہا ہے جو کانٹوں سے بھری ہے، اور ہر قدم پر اُسے سراہ رہا ہے۔ کیوں؟ کیونکہ اُنہی کانٹوں نے اُس کے پاؤں میں چھالے دیے، اور وہی چھالے اُس کے عشق و جنون کا سچا صلہ اور ثبوت ہیں۔ یہ کہنے کا نرالا انداز ہے کہ تکلیف ہی عاشق کا تمغہ ہے — درد کو بوجھ نہیں بلکہ ایک سوغات سمجھ کر اُس کا شکر ادا کرنا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
