میں وہ ہوں صید کہ پھر اس میں پھنستا کو آ — شیخ ابراہیم ذوق

میں وہ ہوں صید کہ پھر اس میں پھنستا کو آ تو قفس سے مجھے صد بار رہائی دیتا

“I am that prey who'd come and be ensnared once more within— though from the cage a hundred times you'd set me free again.”

— شیخ ابراہیم ذوق

معنی

میں وہ شکار ہوں جو پھر سے اسی جال میں آ کر پھنس جاتا، چاہے تو مجھے قفس سے سو بار رہا کر دیتا۔

تشریح

کیا پیاری بات ہے یہاں — شاعر خود کو وہ شکار کہتا ہے جو بار بار اسی جال میں آ پھنستا ہے جس نے اسے گرفتار کیا۔ قفس اور شکار کی تصویر کے ذریعے وہ عشق کی اُس دیوانگی کو بیان کرتا ہے جہاں رہائی ملنے کے باوجود دل پھر اسی قید میں لوٹ آتا ہے۔ محبوب چاہے سو بار آزاد کر دے، عاشق کی فطرت یہی ہے کہ وہ خوشی سے اسی اسیری کی طرف پلٹ آئے، کیونکہ اُسے یہ گرفتاری ہر آزادی سے زیادہ عزیز ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.