نالا اس زور سے کیوں میر ادہائی دیتا — شیخ ابراہیم ذوق
“Why, Mir, would my lament resound with such a mournful might, Had you, O heaven, not made me hear its every piercing cry?”
معنی
اے فلک، میر یہ نالہ اتنے زور سے کیوں کرتا، اگر تو اسے مجھے نہ سناتا۔
تشریح
اس شعر میں میر آسمان سے ایک نرم سی شکایت کرتے ہیں کہ میرا نالہ اتنے زور سے کیوں گونجتا، اگر تو ہی مجھے اس کی آواز نہ سناتا۔ یہاں فلک تقدیر اور اُس خالق کی علامت ہے جس نے درد بھی دیا اور پھر اُس درد کی صدا بھی سنائی۔ گہرائی یہ ہے کہ انسان کا غم اور اُس غم کا احساس دونوں ہی اوپر والے کے عطا کردہ ہیں — دکھ بھی اُس کا، اور دکھ کی خبر بھی اُسی کی دی ہوئی۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
