پنجہ مہر کو خون شفق میں ھر صبح — شیخ ابراہیم ذوق

پنجہ مہر کو خون شفق میں ھر صبح خو باری کیا ہے ترا دست حنائی دیتا

“Each dawn the sun's own palm is drenched in the blood of twilight's glow— what is this bloody rite but your henna-stained hand bestowing its hue?”

— شیخ ابراہیم ذوق

معنی

ہر صبح سورج کے پنجے کو شفق کے خون میں ڈبو دینا—یہ خوں باری تیرے حنائی ہاتھ ہی کی عطا ہے۔

تشریح

ذرا تصور کیجیے — ہر صبح جب افق پر سرخی پھیلتی ہے، شاعر اسے شفق کا خون کہتا ہے، گویا سورج کا ہاتھ اسی سرخی میں ڈوبا ہوا ہو۔ اور یہ لالی آخر کس کی دین ہے؟ محبوب کے حنائی ہاتھوں کی، جن کا رنگ اتنا گہرا ہے کہ وہی ہر روز آسمان کو رنگ بخشتا ہے۔ یہ عاشق کی پیاری مبالغہ آرائی ہے — فطرت کا سارا حسن دراصل محبوب ہی کے جمال کا ادھار ہے۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.