خوگر ناز ہوں کس کا کہ مجھے ساغر مے — شیخ ابراہیم ذوق
“To whose coquetry have I grown so accustomed that even the wine-cup will not grant me the kiss of its lip without first flashing a glance?”
معنی
میں کس کے ناز و انداز کا ایسا عادی ہو چکا ہوں کہ شراب کا جام بھی مجھے اپنے لب کا بوسہ آنکھ دکھائے اور نخرے کیے بغیر نہیں دیتا۔
تشریح
اس شعر میں کیا پیاری سی شکایت چھپی ہے! شاعر کہتا ہے کہ میں کس کے ناز و انداز کا ایسا عادی ہو چکا ہوں کہ اب تو شراب کا ساغر بھی اپنے لب کا بوسہ مجھے یونہی نہیں دیتا — پہلے وہ بھی آنکھ مٹکاتا ہے، ادا دکھاتا ہے۔ یہاں ساغرِ مے کو محبوب کی مانند پیش کیا گیا ہے، گویا ہر چیز اسی انداز سے ملنے لگی ہے جس کی شاعر کو لت پڑ چکی ہے۔ گہرائی میں بات یہ ہے کہ جب انسان کسی کی اداؤں کا دیوانہ ہو جائے تو ساری دنیا میں اسے وہی ناز نظر آنے لگتے ہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
