کون گھر آئینہ کے آتا اگر وہ دل میں — شیخ ابراہیم ذوق
“Who would have come to the mirror's house, had he dwelt within the heart, If he had not granted the broom of cleansing to the lowly ones?”
معنی
آئینے کے گھر کون آتا، اگر وہ دل میں بستا؛ اگر وہ خاکساروں کو صفائی کی جھاڑو نہ دیتا۔
تشریح
اس شعر میں شاعر ایک نازک سی بات کہتا ہے کہ دل کا صاف ہونا ہی اصل آئینہ ہے۔ آئینے کا گھر وہ دل ہے جو ہر شے کو بے داغ دکھائے؛ مگر اگر محبوب خود دل میں بس جاتا تو بھلا کوئی آئینے کے گھر کیوں جاتا؟ اور یہاں 'خاکساروں' یعنی عاجز و منکسر لوگوں کو جو جاروبِ صفائی عطا کی گئی ہے، وہی اُن کی پاکیزگی کا ذریعہ ہے — یعنی جو خود کو مٹا دیتے ہیں، اُنہی کا دل سب سے صاف اور روشن ہوتا ہے۔ کتنی پیاری بات ہے کہ انکساری ہی اصل چمک ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
