غزل

آ گیا پھر رمضاں کیا ہوگا

آ گیا پھر رمضاں کیا ہوگا
نظم طباطبائی· Ghazal· 11 shers· radif: क्या होगा

اس غزل میں شاعر رندانہ انداز میں آمدِ رمضان پر مے خانے سے دوری اور شراب پر پابندی کا شکوہ کرتا ہے۔ وہ روایتی پارسائی کے مقابلے میں عشق کو ترجیح دیتے ہوئے کہتا ہے کہ محبوب کے بغیر جنت کا تصور بھی بے معنی ہے۔

Source: rekhta · HI

نغمہ سنیں
ابھی نغمہ نہیں
رسم الخط
1
आ गया फिर रमज़ाँ क्या होगा हाए ऐ पीर-ए-मुग़ाँ क्या होगा
آ گیا پھر رمضاں کیا ہوگا ہائے اے پیر مغاں کیا ہوگا
رمضان کا مہینہ پھر آ گیا ہے، اب کیا ہوگا؟ ہائے اے شراب خانے کے بزرگ (پیرِ مغاں)، اب ہمارا کیا بنے گا؟
2
बाग़-ए-जन्नत में समाँ क्या होगा तू नहीं जब तो वहाँ क्या होगा
باغ جنت میں سماں کیا ہوگا تو نہیں جب تو وہاں کیا ہوگا
جنت کے باغ کا منظر کیسا ہوگا؟ جب تم ہی وہاں نہیں ہو گے تو پھر وہاں کیا ہوگا۔
3
ख़ुश वो होता है मिरे नालों से और अंदाज़-ए-फ़ुग़ाँ क्या होगा
خوش وہ ہوتا ہے مرے نالوں سے اور انداز فغاں کیا ہوگا
محبوب میری آہ و زاری سے خوش ہوتا ہے، تو پھر فریاد کرنے کا اس سے بہتر انداز اور کیا ہو سکتا ہے۔
4
दूर की राह है सामाँ हैं बड़े इतनी मोहलत है कहाँ क्या होगा
دور کی راہ ہے ساماں ہیں بڑے اتنی مہلت ہے کہاں کیا ہوگا
سفر بہت لمبا ہے اور سامان بہت زیادہ ہے، جبکہ اتنی مہلت یا وقت ہی نہیں ہے؛ اب نہ جانے کیا بنے گا۔
5
देख लो रंग-ए-परीदा को मिरे दिल जलेगा तो धुआँ क्या होगा
دیکھ لو رنگ پریدہ کو مرے دل جلے گا تو دھواں کیا ہوگا
میرے چہرے کے اڑے ہوئے رنگ کو دیکھ لو، جب دل جلے گا تو سوچو اس سے کیسا دھواں اٹھے گا۔
6
होगा बस एक निगह में जो तमाम वो ब-हसरत निगराँ क्या होगा
ہوگا بس ایک نگہ میں جو تمام وہ بہ حسرت نگراں کیا ہوگا
جو صرف ایک ہی نگاہ میں ختم ہو جائے گا، وہ بھلا حسرت سے بھری نظروں سے کیا دیکھ پائے گا۔
7
हम ने माना कि मिला मुल्क-ए-जहाँ न रहे हम तो जहाँ क्या होगा
ہم نے مانا کہ ملا ملک جہاں نہ رہے ہم تو جہاں کیا ہوگا
فرض کر لیں کہ ہمیں ساری دنیا کی حکومت مل بھی جائے، لیکن اگر ہم ہی زندہ نہ رہے تو پھر اس دنیا کا کیا فائدہ یا کیا بنے گا۔
8
मर के जब ख़ाक में मिलना ठहरा फिर ये तुर्बत का निशाँ क्या होगा
مر کے جب خاک میں ملنا ٹھہرا پھر یہ تربت کا نشاں کیا ہوگا
جب مرنے کے بعد خاک میں ہی مل جانا طے ہے، تو پھر قبر کا نشان بنانے کا کیا مقصد ہے۔
9
जिस तरह दिल हुआ टुकड़े अज़-ख़ुद चाक इस तरह कताँ क्या होगा
جس طرح دل ہوا ٹکڑے از خود چاک اس طرح کتاں کیا ہوگا
جس طرح میرا دل خود بخود ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا، بھلا کتاں کا کپڑا بھی اس طرح کبھی چاک ہو سکتا ہے۔
10
या तिरा ज़िक्र है या नाम तिरा और फिर विर्द-ए-ज़बाँ क्या होगा
یا ترا ذکر ہے یا نام ترا اور پھر ورد زباں کیا ہوگا
میری زبان پر یا تو تمہارا تذکرہ رہتا ہے یا تمہارا نام، اس کے سوا بھلا میری زبان پر بار بار دہرایا جانے والا وظیفہ اور کیا ہو سکتا ہے۔
11
इश्क़ से बाज़ न आना 'हैदर' राज़ होने दे अयाँ क्या होगा
عشق سے باز نہ آنا حیدرؔ راز ہونے دے عیاں کیا ہوگا
اے حیدر، عشق سے پیچھے مت ہٹو؛ اگر یہ راز ظاہر بھی ہو جائے تو کیا ہو جائے گا۔
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.