ہوگا بس ایک نگہ میں جو تمام وہ بہ حسرت نگراں کیا ہوگا

“He who is undone in but a single glance, how could he linger, gazing on with longing?”

— نظم طباطبائی
معنی

جو صرف ایک ہی نگاہ میں ختم ہو جائے گا، وہ بھلا حسرت سے بھری نظروں سے کیا دیکھ پائے گا۔

تشریح

اس شعر میں محبوب کی پہلی نظر کے اس پُرجلال اور قہر انگیز اثر کا بیان ہے جو عاشق کو آن کی آن میں فنا کر دیتا ہے۔ شاعر کا کہنا ہے کہ جو نگاہ کے ایک ہی وار میں ختم ہو جائے، اس میں اتنی سکت اور مہلت کہاں کہ وہ حسرت بھری نظروں سے دیر تک دیکھتا رہے۔ یہ عشق میں ایک ایسی فوری اور مکمل شکست کا اظہار ہے جہاں حسرت کرنے کے لیے بھی ہوش باقی نہیں رہتا۔

Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.

آڈیو

تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.