مر کے جب خاک میں ملنا ٹھہرا
پھر یہ تربت کا نشاں کیا ہوگا
“When in death it is our destined fate to mingle with the dust, what purpose then does a marker upon the grave serve?”
— نظم طباطبائی
معنی
جب مرنے کے بعد خاک میں ہی مل جانا طے ہے، تو پھر قبر کا نشان بنانے کا کیا مقصد ہے۔
تشریح
اس شعر میں شاعر انسانی انا اور مرنے کے بعد بھی نام باقی رکھنے کی خواہش پر ایک دردمندانہ سوال اٹھاتا ہے۔ جب انجامِ کار اس وجود کو مٹی میں ہی مل کر فنا ہو جانا ہے، تو پھر قبر کا نشان بنا کر شناخت باقی رکھنے کی کوشش کیوں؟ یہ شعر ہمیں زندگی کی ناپائیداری اور خاک کے ساتھ ایک ہو جانے کے سکون کا احساس دلاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
تلاوتUnavailable
ہندی معنیUnavailable
انگریزی معنیUnavailable
ہندی تشریحUnavailable
انگریزی تشریحUnavailable
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
