“Ramadan has arrived once more, what will become of us now? / Alas, O master of the tavern, what will become of us now?”
رمضان کا مہینہ پھر آ گیا ہے، اب کیا ہوگا؟ ہائے اے شراب خانے کے بزرگ (پیرِ مغاں)، اب ہمارا کیا بنے گا؟
اس شعر میں ایک رندانہ شوخی اور لاڈ بھری بے چینی ہے، جہاں مے کش رمضان کی آمد پر مے خانے بند ہونے کے تصور سے ہی گھبرا گیا ہے۔ وہ تڑپ کر اپنے پیرِ مغاں یعنی مے خانے کے مرشد کو پکارتا ہے کہ اب ہم بادہ کشوں کا اس مہینے میں کیا بنے گا۔ یہ اردو شاعری کا روایتی دلکش انداز ہے جس میں ظاہر پرستی کے مقابلے میں سرمستی اور والہانہ جذبے کو چٹخارے دار انداز میں پیش کیا جاتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
