“Behold this pale, faded countenance of mine; what smoke shall rise when the heart itself catches fire?”
میرے چہرے کے اڑے ہوئے رنگ کو دیکھ لو، جب دل جلے گا تو سوچو اس سے کیسا دھواں اٹھے گا۔
شاعر اپنے زرد اور پھیکے چہرے کی طرف متوجہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اندر سلگتی ہوئی تڑپ کا تو یہ محض ایک ہلکا سا اشارہ ہے۔ اردو شاعری میں دل کا جلنا عشق اور ہجر کی ناقابلِ برداشت آگ کا استعارہ ہے، جہاں چہرے کا پیلا پن گویا اُس آگ کی پہلی راکھ ہے۔ وہ محبوب سے درد بھرے انداز میں پوچھتا ہے کہ اگر شروعات میں ہی یہ حال ہے، تو جب دل واقعی جل اٹھے گا تب اس کے دھوئیں اور بربادی کا کیا عالم ہوگا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
