“Long is the journey ahead, vast the burdens we bear; where is the respite granted us—what fate awaits us there?”
سفر بہت لمبا ہے اور سامان بہت زیادہ ہے، جبکہ اتنی مہلت یا وقت ہی نہیں ہے؛ اب نہ جانے کیا بنے گا۔
یہ شعر انسانی زندگی کی بے ثباتی اور ہماری بے شمار خواہشات کے دردناک تضاد کو بیان کرتا ہے۔ انسان نے دنیاوی سامانوں، تمناؤں اور فکروں کا اتنا بھاری بوجھ اٹھا رکھا ہے، جبکہ اس طویل سفر کے لیے زندگی کی مہلت بہت کم ہے۔ شاعر کے اس معصومانہ سوال میں ایک گہری بے بسی چھپی ہے کہ وقت کی اس قلت کے ساتھ آخر ہمارا انجام کیا ہوگا۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
