“Even grant that the realm of the world is won; if we are no more, what will become of the world?”
فرض کر لیں کہ ہمیں ساری دنیا کی حکومت مل بھی جائے، لیکن اگر ہم ہی زندہ نہ رہے تو پھر اس دنیا کا کیا فائدہ یا کیا بنے گا۔
یہ شعر دنیاوی جاہ و جلال اور بادشاہت کی بے ثباتی کا ایک پُراثر احساس دلاتا ہے۔ شاعر بڑی سادگی سے پوچھتا ہے کہ اگر انسان کو پوری کائنات کی سلطنت بھی مل جائے، تو اس کا کیا فائدہ جب ہم خود ہی باقی نہ رہیں؟ حقیقت تو یہ ہے کہ اس جہان کی ساری رونق اور معنویت ہمارے وجود اور احساس ہی کے دم سے ہے، ہمارے بغیر یہ سب کچھ محض ایک ویرانہ ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
