“What splendor could the garden of paradise bear, when you are not there, what could be there?”
جنت کے باغ کا منظر کیسا ہوگا؟ جب تم ہی وہاں نہیں ہو گے تو پھر وہاں کیا ہوگا۔
یہ شعر محبت کے اس سچے جذبے کی عکاسی کرتا ہے جہاں محبوب کی غیر موجودگی میں جنت کی تمام تر رونقیں بھی بے معنی لگتی ہیں۔ شاعر 'باغِ جنت' کو حسن و راحت کا استعارہ بنا کر پیش کرتا ہے، مگر ساتھ ہی یہ واضح کر دیتا ہے کہ اصل فردوس محبوب کا ساتھ ہے۔ اگر وہی موجود نہیں تو کائنات کا سب سے خوبصورت مقام بھی عاشق کے دل کے لیے ایک ویرانے سے بڑھ کر کچھ نہیں۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
