“Do not turn away from love, O Haidar; let the secret be laid bare, what is there to fear?”
اے حیدر، عشق سے پیچھے مت ہٹو؛ اگر یہ راز ظاہر بھی ہو جائے تو کیا ہو جائے گا۔
اس شعر میں حیدرؔ خود کو مخاطب کر کے بڑی بے باکی سے تلقین کرتے ہیں کہ رسوائی یا زمانے کے ڈر سے محبت کے راستے سے کبھی پیچھے مت ہٹنا۔ عشاق عموماً اس خوف میں گھلتے رہتے ہیں کہ دل کا راز افشا ہو کر رسوائی کا سبب بنے گا، مگر شاعر بے فکری سے سوال اٹھاتا ہے کہ راز کھل بھی گیا تو آخر کیا ہو جائے گا؟ یہ شعر عشق میں تمام مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر بے خوف جینے کا والہانہ حوصلہ بخشتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
