“Either it is your mention, or it is your name—what else could ever be the constant chant upon my tongue?”
میری زبان پر یا تو تمہارا تذکرہ رہتا ہے یا تمہارا نام، اس کے سوا بھلا میری زبان پر بار بار دہرایا جانے والا وظیفہ اور کیا ہو سکتا ہے۔
اس شعر میں محبوب کی محبت میں مکمل ڈوب جانے اور والہانہ وارفتگی کی کیفیت کو کمال سادگی سے بیان کیا گیا ہے۔ 'وردِ زباں' کی ترکیب ذکر اور عبادت کے تسلسل کو ظاہر کرتی ہے، گویا محبوب کا نام پکارنا شاعر کے لیے سانس لینے جیسی فطری اور روحانی ضرورت بن چکا ہے۔ جب دل کے ہر گوشے میں بس محبوب ہی آباد ہو، تو پھر لبوں پر کسی اور خیال یا لفظ کا گزر بھلا کیسے ممکن ہو سکتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
