غزل

وصل کی شب شام سی مین گیا

وصل کی شب شام سی مین گیا
مومن خاں مومن· Ghazal· 11 shers

Source: Kulliyat-e-Momin (old lithograph edition) · HI

نغمہ سنیں

شعر بہ شعر معنی

رسم الخط
1
वस्ल की शब शाम से मैं गया हालना हिजराँ का बला हो गया
وصل کی شب شام سی مین گیا حالنا ہجران کا بلا ہو گیا
وصل کی رات شام ہی سے گزر گئی، اور ہجر کی حالت ایک بلا بن گئی۔
2
दिल न पहरा जान ही ठहरी ख़ुदा यह तो न-जानी कहीं वो तो गया
دل نہ پہرا جان ہی ٹہرئی خدا یہہ تو نجانی کہین وہ تو گیا
میں نے دل کی حفاظت نہ کی، بس جان ہی ٹھہری رہی، اے خدا۔ یہ تو مجھے معلوم ہی نہ تھا کہ وہ تو کہیں چلا گیا۔
3
उठिए जल्दी से टपक को मैं दिल ही नहीं बाग़ तही से देखो गया
اُٹھئیہ جلدی سی ٹپک کو مین دل ہی نہین باغ تہی سی دیکھو گیا
جلدی اُٹھیے، کیونکہ میں قطرہ قطرہ ڈھل رہا ہوں؛ دیکھو، صرف دل ہی نہیں بلکہ سارا باغ بھی اپنی گہرائی تک خالی ہو گیا ہے۔
4
हुईं सियह रोज़ कि वो शम्अ-रू शाम को आया था सहर को गया
ہوئین سیہ روز کہ وہ شمع رو شام کو آیا تہا سحر کو گیا
میرے دن سیاہ اور تاریک ہو گئے، کیونکہ وہ شمع جیسے چہرے والا شام کو آیا تھا اور صبح ہوتے ہی چلا گیا۔
5
ताले-ए-बरगश्ता मेरी क्या हरन मुल्क-ए-अदम से न फिर अहू गया
طالع برگشتہ میری کیا ہرن ملک عدم سی نہ پہر احو گیا
میرا نصیب الٹ گیا ہے—اب کیسا ہرن اور کیسا آہو؟ عدم کی سرزمین سے تو کوئی ہرن کبھی لوٹ کر نہیں آیا۔
6
साथ न चलने का बहाना तो देख आगे मेरी नअश पे वो सो गया
ساتہہ نہ چلنی کا بہانہ تو دیکہہ آگی میری نعش پہ وہ سو گیا
ساتھ نہ چلنے کا بہانہ تو دیکھو—وہ میری نعش کے آگے ہی سو گیا۔
7
शोख़ी-ए-क़ातिल की मैं बान हूँ कहती रही सब यह क्या दो गया
شوخی قاتل کی مین بان ہون کہتی رہی سب یہہ کیا دو گیا
میں اپنے قاتل کی شوخی کا نشانہ ہوں؛ وہ بار بار پوچھتی رہی کہ یہ سب کیا ہو گیا۔
8
सब्र नहीं शाम-ए-फ़िराक़ आजको हक़ से कि बेज़ार थी तुम सो गया
صبر نہین شام فراق آجکو حق سی کہ بیزار تہی تم سو گیا
آج جدائی کی اس شام میں صبر نہیں رہا—خدا کی قسم، تم اتنی تھکی ہوئی تھیں کہ سو گئیں۔
9
शुक्र असर था गिला-ए-दुश्मनाँ नाला मेरी काम से या रो किया
شکر اثر تہا گلہ دشمنان نالہ میری کام سی یا رو کیا
میں شکرگزار تھا، اگرچہ دشمن شکایت اور ملامت کرتے رہے؛ میری فریاد کیا میرے کسی کام آئی، یا وہ بس بے سود روتی ہی رہی۔
10
ज़ुल्फ़ की बू आएगी हमको मगर ग़ैर की कहर दस्ता-ए-शब-बू गया
زلف کی بو آئیگی ہمکو مگر غیر کی کہر دستہ شب بو گیا
شاید زلف کی خوشبو ہم تک پہنچ جائے، مگر شب بو کے پھولوں کا گچھا رقیب کے ظالم ہاتھ میں چلا گیا۔
11
हाय सनम हाय सनम लब पे क्यूँ ख़ैरी मोमिन तुम्हें क्या हो गया
ہای صنم ہای صنم لب پہ کیون خیری مومن تمہیں کیا ہو گیا
"ہای صنم، ہای صنم" — یہ الفاظ تمہارے لبوں پر کیوں ہیں؟ اے نیک مومن، تمہیں آخر کیا ہو گیا ہے؟
Comments · 0

Free — just your email. You'll come right back here.

No comments yet. Be the first.