ہای صنم ہای صنم لب پہ کیون — مومن خاں مومن
“"Alas, beloved! Alas, beloved!" — why upon your lips these words? O pious Momin, tell me, what has come over you?”
معنی
"ہای صنم، ہای صنم" — یہ الفاظ تمہارے لبوں پر کیوں ہیں؟ اے نیک مومن، تمہیں آخر کیا ہو گیا ہے؟
تشریح
اس شعر میں ایک پیاری سی چھیڑ چھاڑ ہے — شاعر خود سے، یا کسی پرہیزگار 'مومن' سے پوچھتا ہے کہ تمہارے لبوں پر 'ہای صنم، ہای صنم' کے یہ عاشقانہ بول کیسے آ گئے؟ جو شخص عبادت اور ضبط کا پابند تھا، وہ اچانک عشق کی پکار میں ڈوبا دکھائی دیتا ہے۔ اس نرم طنز کے پیچھے ایک گہری سچائی چھپی ہے کہ محبت بڑے سے بڑے پارسا دل کو بھی پگھلا دیتی ہے اور ایمان و تقویٰ کی دیواریں بھی توڑ ڈالتی ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
