شکر اثر تہا گلہ دشمنان — مومن خاں مومن
“Thankful I was, though enemies would chide and blame; / my lament—did it work for me, or did it merely weep in vain?”
معنی
میں شکرگزار تھا، اگرچہ دشمن شکایت اور ملامت کرتے رہے؛ میری فریاد کیا میرے کسی کام آئی، یا وہ بس بے سود روتی ہی رہی۔
تشریح
اس شعر میں شاعر شکر اور شکایت کے بیچ جھولتا نظر آتا ہے—دشمنوں کے طعنوں کے باوجود وہ شکرگزار ہے، مگر ساتھ ہی خود سے پوچھتا ہے کہ کیا اس کا نالہ واقعی کسی کام آیا یا بس بے سود آنسو بہاتا رہا۔ یہاں 'نالہ' محض رونا نہیں بلکہ دل کی وہ پکار ہے جو اثر چاہتی ہے۔ گہرائی میں یہ انسان کی اُس کیفیت کو چھوتا ہے جب وہ اپنی کوششوں اور فریاد کے نتیجے پر شک کرنے لگتا ہے۔
Interpretation note: meanings and explanations may be AI-assisted and should not replace a primary text or scholarly edition. See the editorial policy.
آڈیو
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
