غزل
था मुस्तआर हुस्न से उस के जो नूर था
था मुस्तआर हुस्न से उस के जो नूर था
یہ غزل ایک ایسے حسن و نورِ الٰہی کی وصف کرتی ہے جو اتنا عمیق ہے کہ ہر چیز میں پھیلا ہوا ہے۔ شاعر اپنی جذبات کی شدت اور خودشناسی کے تجربے کو بیان کرتا ہے، اور یہ نتیجہ اخذ करता है कि وہ خود بھی خدا سے بہت دور تھا۔
نغمہ سنیں
1
था मुस्तआर हुस्न से उस के जो नूर था
ख़ुर्शीद में भी उस ही का ज़र्रा ज़ुहूर था
تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا
خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا
اس کی حسن کے نُور سے، جو چمک تھی اس میں، سورج میں بھی بس اس کا ہی ایک ذرہ ظاہر تھا۔
2
हंगामा गर्म-कुन जो दिल-ए-ना-सुबूर था
पैदा हर एक नाले से शोर-ए-नुशूर था
ہنگامہ گرم کن جو دل ناصبور تھا
پیدا ہر ایک نالے سے شور نشور تھا
وہ دل جو بے قرار اور گرم جوشی سے بھرا تھا، ہر نالے سے شورِ نشور پیدا کر رہا تھا۔
3
पहुँचा जो आप को तो मैं पहुँचा ख़ुदा के तईं
मालूम अब हुआ कि बहुत मैं भी दूर था
پہنچا جو آپ کو تو میں پہنچا خدا کے تئیں
معلوم اب ہوا کہ بہت میں بھی دور تھا
اگر میں آپ کو پہنچا تو میں خدا کی تنصیب سے پہنچا؛ معلوم ہوا کہ میں بھی بہت دور تھا۔
4
आतिश बुलंद दिल की न थी वर्ना ऐ कलीम
यक शो'ला बर्क़-ए-ख़िर्मन-ए-सद-कोह-ए-तूर था
آتش بلند دل کی نہ تھی ورنہ اے کلیم
یک شعلہ برق خرمن صد کوہ طور تھا
میرا دل اتنا بلند آتش نہیں تھا کہ وہ ہوتا، اے کلیم، ورنہ یہ بجلی کا کڑکنے جیسا ہوتا، جو صقر-ए-خیرمن-ए-सद-کوہ-ए-تور جیسا ہوتا۔
5
मज्लिस में रात एक तिरे परतवे बग़ैर
क्या शम्अ क्या पतंग हर इक बे-हुज़ूर था
مجلس میں رات ایک ترے پرتوے بغیر
کیا شمع کیا پتنگ ہر اک بے حضور تھا
مجلس میں رات تمہارے بغیر ادھوری تھی، نہ شمع تھی نہ پتنگ، ہر چیز تمہاری غیر موجودگی کے بغیر بے رونق تھی۔
6
उस फ़स्ल में कि गुल का गरेबाँ भी है हवा
दीवाना हो गया सो बहुत ज़ी-शुऊर था
اس فصل میں کہ گل کا گریباں بھی ہے ہوا
دیوانہ ہو گیا سو بہت ذی شعور تھا
اُس فصل میں کہ گل کا گرباں بھی ہے ہوا
دیوانہ ہو گیا سو بہت زیرشوع تھا
7
मुनइ'म के पास क़ाक़ुम ओ संजाब था तो क्या
उस रिंद की भी रात गुज़र गई जो ऊर था
منعم کے پاس قاقم و سنجاب تھا تو کیا
اس رند کی بھی رات گزر گئی جو عور تھا
منعم کے پاس قاقم و سنجاب تھا تو کیا، اس رند کی بھی رات گزر گئی جو عور تھا۔
8
हम ख़ाक में मिले तो मिले लेकिन ऐ सिपहर
उस शोख़ को भी राह पे लाना ज़रूर था
ہم خاک میں ملے تو ملے لیکن اے سپہر
اس شوخ کو بھی راہ پہ لانا ضرور تھا
اگر میں تمہیں خاک میں ملا تو ملا، لیکن اے صیفر، اس نشہ آور کو بھی راہ پر لانا ضرور تھا۔
9
कल पाँव एक कासा-ए-सर पर जो आ गया
यकसर वो उस्तुख़्वान शिकस्तों से चूर था
کل پاؤں ایک کاسۂ سر پر جو آ گیا
یکسر وہ استخوان شکستوں سے چور تھا
کل پاؤں ایک کسا-ئے سر پر جو آ گیا، یکسر وہ اُستوخوان شکستوں سے چور تھا۔
10
कहने लगा कि देख के चल राह बे-ख़बर
मैं भी कभू किसू का सर-ए-पुर-ग़ुरूर था
کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبر
میں بھی کبھو کسو کا سر پر غرور تھا
وہ کہنے لگا کہ دیکھ کے چل راہ بے خبر، میں بھی کبھی کسو کا سر-ए-پور-غرور تھا۔
11
था वो तो रश्क-ए-हूर-ए-बहिश्ती हमीं में 'मीर'
समझे न हम तो फ़हम का अपनी क़ुसूर था
تھا وہ تو رشک حور بہشتی ہمیں میں میرؔ
سمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنی قصور تھا
وہ تو رشکِ حورِ بہشتی ہم میں تھا، 'میر'۔ ہم سمجھ نہ پائے، یہ اپنی فہم کا قصور تھا۔
Comments · 0
Free — just your email. You'll come right back here.
No comments yet. Be the first.
